صحت

ماہرین طب نے ایک بڑے سروے کے بعد دریافت کیا ہے کہ پرامید لوگ جو مایوس نہیں ہوتے، وہ عام طور پر سکون کی نیند سوتے ہیں ۔

پرامید لوگ مایوس نہیں ہوتے

ماہرین طب نے ایک بڑے سروے کے بعد دریافت کیا ہے کہ پرامید لوگ جو مایوس نہیں ہوتے; وہ عام طور پر سکون کی نیند سوتے ہیں ۔

حال ہی میں طبی ماہرین نے ایک تحقیق کی ہے اس تحقیق میں شریک ہونے والے افراد سے ان کے سونے اورجاگنے کے معمولات ; صحت کی کیفیات کے بارے میں سوالنامے پُر کروائے گئے اور مختلف حالات میں ان کا ردِعمل بھی جانچا گیا تویہ بات سامنے آئی; جو پرامید لوگ ہوتے ہیں اور مایوس نہیں ہوتے;وہ عام طور پر سکون کی نیند سوتے ہیں اور جب سو کر اٹھتے ہیں; تو صحیح معنوں میں تازہ دم بھی ہوتے ہیں۔

طبی ماہرین کو معلوم ہوا کہ پرامید لوگوں میں بے خوابی کی شکایت، مایوس لوگوں کے مقابلے میں 74 فیصد کم تھی، جو ایک بہت بڑا فرق ہے۔ سروے میں جہاں پرامید لوگ وں اور بہتر نیند کے مابین واضح تعلق دیکھنے میں آیا; وہیں پرانے مطالعات سے حاصل شدہ نتائج کی تصدیق بھی ہوئی ہے; جو یہ بتاتے ہیں کہ پرامید لوگ وں کو دل اور شریانوں کے امراض کا خطرہ بھی بہت کم رہتا ہے۔

تحقیق

یونیورسٹی آف الینوئے، اربانا شیمپین میں ڈاکٹر روزالبا ہرنانڈیز اور ان کے ساتھیوں نے یہ تحقیق 3548 افراد پر کی; اور ان افراد کی عمریں 32 سے 51 سال تھیں۔ مطالعے کے نتائج ریسرچ جرنل ’’ Behavioral Medicine‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ : عالمی وعلاقائی ; مقامی اور ذاتی وجوہات کی بناء پر لوگوں میں ’’مکمل اورمعیاری نیند‘‘ کی شرح کم ہوتی جارہی ہے جس کی وجہ سے صحت کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ معیاری نیند سے مراد ایسی نیند ہے; جس کے بعد تھکن مکمل طور پر ختم ہوجائے; اور جاگنے پر بھرپور ذہنی و جسمانی تازگی کا احساس ہو

۔2012ءمیں ریسرچ جرنل ;Sleep Problems ;کے ایک شمارے میں شائع ہونے والی رپورٹ میں تخمینہ لگایا گیا تھا کہ; دنیا بھر میں پچاس سال یا اس سے زیادہ عمر کےپندرہ ( 15 ) کروڑ افراد نیند کے مسائل میں مبتلا ہیں ;جبکہ یہ تعداد 2030ء تک بڑھ کر 26 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔

ءمیں ریسرچ جرنل ;Sleep Problems ;کے ایک شمارے میں شائع ہونے والی رپورٹ میں تخمینہ لگایا گیا تھا کہ; دنیا بھر میں پچاس سال یا اس سے زیادہ عمر کےپندرہ ( 15 ) کروڑ افراد نیند کے مسائل میں مبتلا ہیں ;جبکہ یہ تعداد 2030ء تک بڑھ کر 26 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔

ءمیں ریسرچ جرنل Sleep Problems کے ایک شمارے میں شائع ہونے والی رپورٹ میں تخمینہ لگایا گیا تھا کہ دنیا بھر میں پچاس سال یا اس سے زیادہ عمر کےپندرہ ( 15 ) کروڑ افراد نیند کے مسائل میں مبتلا ہیں جبکہ یہ تعداد 2030ء تک بڑھ کر 26 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔

مایوسی کفر ہے اور امید پر دنیا قائم ہے

اگرچہ ;مایوسی کفر ہے; اور ;امید پر دنیا قائم ہے; جیسے اقوال صدیوں سے مشہور ہیں اور ہمیں روز مرہ سننے کو بھی ملتے ہیں لیکن بہت کم لوگ ان اقوال کواہمیت دیتے ہیں;اور تھوڑی سی ناکامی اور مشکل حالات کا سامنا ہونے پر انتہائی مایوسی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ یہی مایوسی کئی طرح کی نفسیاتی بیماریوں کا سبب بنتی ہے; اور شدید ترین مایوسی خودکشی تک لے جاتی ہے۔

وارلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں خودکشی کرنے والے افراد کی تعداد میں سالانہ مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ 2018ء تک خودکشی کرنے والوں کی سالانہ تعداد کا تخمینہ; تقریباً 8 لاکھ افراد تھااور ہر 40 سیکنڈ میں دنیا کا کوئی ایک نہ ایک فرد خودکشی کررہا تھا;جس تیز رفتاری سے خودکشی کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے;اس کی بناء پر خدشہ ہے کہ 2020ء تک یہ تعداد 16 لاکھ سالانہ تک پہنچ جائے گی; یعنی اس وقت ہر 20 سیکنڈ میں کوئی ایک انسان خودکشی کررہا ہوگا۔

اوپر