پاکستا ن

حکومت کا سوشل میڈیا کے غلط استعمال پر سائبرکرائم قانون میں ترمیم لانے کا فیصلہ

سائبرکرائم

سلام آباد (ویب ڈیسک) حکومت کا سوشل میڈیا کے غلط استعمال پر قانون میں ترمیم لانے کا فیصلہ ۔ وزارت قانون نے قانون میں ترامیم کا ڈرافٹ تیارکرلیا ;وزیرقانون فروغ نسیم۔وفاقی حکومت نے سوشل میڈیا کے غلط استعمال پر سائبرکرائم قانون میں ترامیم لانے کا فیصلہ کرلیا ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیرقانون فروغ نسیم نے کہا کہ وزارت قانون نے سائبرقانون میں ترامیم کا ڈرافٹ تیارکرلیاہے; جس سے  بہت سی خامیاں دور اوربہت سی چیزوں میں بہتری آ جا ئیگی ۔ وزیرقانون نے کہا کہ کچھ دن پہلے سائبرکرائم کے حوالے سے نئے رولز بنالیئے گئے ہیں۔

فروغ نسیم کا کہانا  تھا کہ; رولزکوحتمی شکل دینے کے بعد  فوراً ہی کابینہ میں پیش کردیا جائے گا۔ نئے رولزسے ساری خامیاں دور اورچیزیں بہترہوجائیں گی; اظہاررائے کی آزادی; بنیادی حقوق اور انسانی حقوق کوبھی دیکھنا ہے۔ وفاقی وزیر قانون نے پاکستان بھر کی مختلف بار کونسلوں کے صدور; سیکریٹریز اور عہدیداران میں چیک تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کیا ;اور کہا کہ وکلاء برادری کی فلاح و بہبود حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

انہوں نے کہا کہ; بار کونسلز کی آزاد حیثیت برقرار رکھنے کے لئے مالی خودمختاری  بہت ضروری ہے;اور میں نے بار ایسوسی ایشن کے عہدیدار کی حیثیت سے اس کی مالی خودمختاری کے لئے بہت کوشش کی تھی لیکن اس وقت کی حکومت نے ہمارا مطالبہ مسترد کر دیا تھا۔ ان کا کہانا  تھا کہ اپوزیشن عوامی فلاح و بہبود کے قوانین کی منظوری کے لئے ایوان کے باہر تو تعاون کی یقین دہانی کردیتی ہے ;لیکن ایوان کے اندر اور کمیٹی میں اسطرح قوانین کی مخالفت کرتی ہے ۔

وفاقی وزیر  براے قانون نے کہا کہ; اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججوں کی تعداد میں اضافہ عوام کی سہولت کے لئے تھااور اپوزیشن نے اس بل کی حمایت کا یقین بھی دلایا تھا لیکن ;سینٹ میں اپوزیشن نے اسے مسترد کر دیا۔ جس  سے وکلاء اور سائلین کو نقصان پہنچا.انہوں نے کہا کہ بارکونسلز اور ایسوسی ایشنز کو حق ملنا چاہئے; ماضی میں وکلاء کی داد رسی نہیں کی  گئی لیکن ہماری حکومت مشکل مالی صورتحال کے باوجود وکلاء کو ان کا حق دے رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بجٹ میں مختص کئے گئے فنڈز بلا امتیاز تمام ایسوسی ایشنز کو فراہم کئے جا رہے ہیں ;جب کہ ماضی میں یہ فنڈز پسند و ناپسند کی بنیاد پر تقسیم کئے گئے ;تاہم اب یہ فنڈز بلا امتیاز اور شفاف طریقہ سے دور دراز کے علاقوں کی بار کونسلز کو بھی فراہم کئے گئے ہیں۔

اوپر