آج کی بات

کامیاب شادی کے لئے میاں بیوی کی عمر میں کتنا فرق ہونا چاہیے جانیئے ماہرین کی رائے

Successful Marriage

رحیم یارخان( ایس بی سی اردو ) شادی کرتے وقت اکثر لوگ یہ بات سوچتے ہیں کہ; عورت اور مرد کے درمیان عمر کا فرق کتنا ہونا چاہیے ;اورشادی کے وقت بھی اکثرلوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ دلہا اور دلہن کی عمر میں فرق کتنا ہے ؟ ۔ ہمارے ہاں یہ رواج بن چکا ہے کہ ;عورت کی عمر مرد سے چار یا پانچ سال کم ہی ہونی چاہیے; نہیں تو شادی کامیاب ہی نہیں ہو گی۔

حال ہی میں کی گئی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ;مرد اور عورت کے درمیان عمر کا فرق اگر بڑھ جائے; تو ان دونوں کے درمیان طلاق ہونے کی شرح بھی بڑھ جاتی ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ مرد کی عمر زیادہ ہواور عورت کی عمر کم ہو تو شادی کامیاب رہے گی ورنہ نہیں; اگر مرد اور عورت دونوں کی عمر برابر بھی ہو ;یاعمر میں تھوڑا سا فرق بھی ہوتو پھر بھی شادی کامیاب ہونے کے امکانات زیادہ ہی ہوتے ہیں۔

حالیہ تحقیق اور ماہرین کی رائے

تحقیق میں; 3000 ;شادی شدہ طلاق یافتہ افراد کو شامل کیا گیا۔ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ; اگر مرد اور عورت کے درمیان عمر کا فرق ایک سال ہو; تو دونوں کے درمیان 3 فیصد طلاق ہونے کے چانس ہوتے ہیں۔ اسی طرح اگردونوں (مرد اور عورت )کے درمیان عمر کا فرق پانچ سال تک ہوتو طلاق ہونے کے چانس 18 فیصد تک ہو جاتے ہیں; اور اگر عمر کا یہی فرق دس سال پرچلا جائے تو طلاق کا امکان; 40 ;فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

ضرورپڑھیں : ذہین لوگ کس طرح کے ہوتے ہیں اور ان میں کون کون سی عادات پائی جاتی ہیں

ماہرین کے مطابق: یہ بات ضروری نہیں کہ ہروہ شادی جس میں مرد اور عورت کے درمیان; عمر کا زیادہ فرق ہو تو اس شادی کا انجام برا ہو۔ لیکن بہتر یہی ہے کہ شادی کرتے وقت عمر کا خیال رکھا جائے; اور کوشش کی جائے کہ شادی کے وقت مرد اور عورت کی عمر میں فرق کم سے کم ہو۔

|SBC urdu – free online news-papers



اوپر