آج کی بات

استاد اخلاقیات جہالت اورتعلیم ہماری توقعات اور معاشرہ

رحیم یار خان (سچ بول چال آن لائن ) ہمارے ہاں ہر کسی نے ;اخلاقیات کا معیار اپنی مرضی کے مطابق مقرر کر رکھا ہے; ہم دوسروں کو اخلاقیات کا پیکرتو دیکھنا; چاہتے ہیں اور خود ;بد اخلاقی کی مثالیں; قائم کرتے رہتے ہیں جب تک بداخلاقی پر کوئی; سزا و جزا کا قانون نہیں; بنایا جاتا اس وقت تک یہی ہوتا رہے گا اورہم ایک دوسرے کو اخلاقیات کی گراوٹ کا الزام دیتے رہیں گے۔

کتنی تکلیف دے بات ہے کہ ہمارے معاشرے میں ;تعلیم یافتہ لوگ اخلاقی قدروں سے ناواقف; ہیں اور جو ;دوسروں کو تعلیم کے زیور; سے آراستہ کرتے ہیں اور جب انہیں نے غصہ آتا ہے تو اخلاقیات کی ;دھجیاں اڑاتے نظر آتے ہیں; ذرا انصاف سے سوچیئے کہ جو بداخلاقی کا مظاہرہ ایک جاہل انسان کرتا ہے اگر وہی عمل تعلیم یافتہ کرے تو ;جہا لت اورتعلیم; میں کیا فرق رہ جاتا ہے۔

استاد

استادتواس سے بھی زیادہ بلند مقام کاحامل ہوتا ہے جواستا د محبت; شفت اور صلہ رحیمی; کرتے ہیں وہ واقعی قابل عزت ہیں۔اور جو سزا کے نام پر بچوں کو ;لاتوں ;مکوں سے زدوکوب کریں اور انہیں اٹھا ;اٹھا کر زمین پر ماریں یہ سزا نہیں درندگی ہے; اور ایسے لوگوں کو مقدس پیشے سے فارغ کر دیا جانا چاہیے۔

مزید پڑھیں : اساتذہ کو دیئے جانے والےچند سکے بطور تنخواہ علم کا نعم البدل ہر گزنہیں

توقعات

ہر پیشہ سے وابستہ لوگوں میں کچھ ;صلاحیت ہونی ضروری ہے; جب تک وہ اس پر پورا نہیں اترتے اس وقت تک وہ اس پیشے کے قابل نہیں ہوتے لوگوں میں کچھ صلاحیت ہونی ضروری ہے اور جتنا زیادہ عزت والا مقام ہوگا لوگ اس سے اس ;مقام اور معیار کے مطابق ;اس کے مثالی انسان کی توقع رکھتے ہیں. اور ایسا ہونا بھی چاہیے تبھی وہ انسان اس مقام کا مستحق کہلاتا ہے۔ ایک استاد کو اپنے رتبہ اور مقام کے مطابق ;صلہ رحمی; برداشت اور اخلاقیات کا پیکر; ہونا چاہیے۔

اللہ پاک ہم سب کو اپنے; محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم; کی تعلیمات کے مطابق ایک مثالی انسان بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

مزید پڑھیں : اساتذہ کو ہتھکڑیاں لگانے والے نیب افسران کے خلاف کارروائی کا فیصلہ

سچ بول چال آن لائن1   sbc voices



To Top