آج کی بات

اساتذہ کو دیئے جانے والےچند سکے بطور تنخواہ علم کا نعم البدل ہر گزنہیں

Urdu news

sbconline1 Urdu news


اساتذہ کو دیئے جانے چند سکے بطور تنخواہ علم کا نعم البدل ہر گزنہیں


رحیم یار خان (سچ بول چال Urdu news )اساتذہ کو دیئے جانےوالے چند سکے بطور تنخواہ یہ علم کا نعم البدل ہر گزنہیں۔یہ تو وقت دینے کا بھی پورا بدل نہیں ہے۔ پوری ;دنیا بیچ کر استاد کے قدموں میں رکھ دیں; تب بھی ہم ایک لفظ کا بدلہ نہیں چکا سکتے۔ کیوں کے ;حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ ایک لفظ کے بدلے; میں میرا استاد مجھے بازار میں چاہے تو بیچ ڈالے۔ جب استاد کے پڑھائے گئے ایک لفظ کا نعم البدل ;حضرت علی رضی اللہ عنہ جیسی ہستی; کو بازارمیں بیچ ڈالنے سے بھی پورا نہیں ہوتا تو تنخواہ کے چند روپوں کی کیا اوقات ہے؟

والدین اور ہماری حکومتیں

پاکستان میں یہ روایت عام ہو چکی ہےبلکہ ہماری ;حکمتوں اور والدین; نے یہ روایت ڈال دی ہے کہ اگراستاد بچے کو تھوڑا سا ڈانٹ لے تو والدین بچے کو سمجھانے کے بجائے ;استاد کو برا بھلا; کہہ کر اس کی تذلیل کرتے ہیں۔ جبکہ استاد کی بچے کے ساتھ کوئی ;ذاتی دشمنی; نہیں پوتی۔ استاد اگر سرزنش کرتا بھی ہے تو بچے کی تربیت و اصلاح اور اس کے مستقبل کے لئیے کرتا ہے۔

ترقی یافتہ ممالک

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں بھی طلبا کو سزا دی جاتی ہے۔ شمالی کوریا کا ;تعلیم میں نمبر; دیکھیں اور پاکستان کانمبر دیکھیں۔ وہاں طلبا کو سزا دینے کیلئے اساتذہ کو ایک ;خاص چھڑی; دی جاتی ہے۔ سزا کا مطلب ہر گزیہ نہیں کہ ;طلباء پر ظلم کیا جائے یا طلباء کو ذدوکوپ; کیا جائے۔ لیکن سزا اور جزا کا نظام اللہ تعالیٰ نے بھی بنایا ہے۔ تربیت کرنے کیلئے مناسب سزا بہت ضروری ہے اور اگر آپ قوم کے معمار( استاد) کو طلبا کی سزا سے متعلق کوئی ;پیغام دینا بھی چاہتے ہیں; تو مہذب انداز اور مناسب الفاظ میں دیں استاد کی تذ لیل نہ کریں ۔

مزید پڑھیں : پنجاب بھرکی تمام پرائیویٹ یونیورسٹیوں سے متعلق چیف جسٹس کاازخود نوٹس

جن قوموں نے دنیا میں ;عروج و منز لت; حاصل کی ہے وہ استاد کا نام سن کر عدالت میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ٹریفک سگنل پر راستہ چھوڑ دیتے ہیں۔ اساتذہ کو مادی سہولیات میں سب سے اوپر رکھتے ہیں۔ اگر معاشرے کو ;ترقی اور عروج; کی جانب گامزن کرنا ہے تو تعلیم اور اساتذہ کو عزت اور مقام دینا ہو گا۔

سچ بول چال Urdu news



اوپر