صحت

یونیورسٹی آف کولمبیا کے ماہرین نےایک ایسا الٹرا سائونڈ سسٹم تیار کرلیا ہے، جس کا سائز زخموں پر باندھنے والی پٹی کے برابر ہے ۔


یونیورسٹی آف کولمبیا کے ماہرین نےایک ایسا الٹرا سائونڈ سسٹم تیار کرلیا ہے،; جس کا سائز زخموں پر باندھنے والی; پٹی; کے برابر ہے۔ قیمت صرف سو یو ایس ڈالر ہے ۔ پاکستانی روپوں میں قیمت تقریباً 12499 روپے ہے ۔


ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کے باوجود ;الٹراساؤنڈ مشینیں; اب بھی دنیا بھر میں بہت مہنگی ہیں ۔یونیورسٹی آف کولمبیا کے ماہرین  نےایک ایسا ;الٹرا سائونڈ سسٹم ;تیار کرلیا ہے، جس کا سائز زخموں پر باندھنے والی پٹی کے برابر  ہے ۔قیمت صرف سو یو ایس ڈالر ہے ۔ پاکستانی روپوں میں قیمت تقریباً 12499 روپے ہے ۔

برٹش یونیورسٹی کولمبیا کے ماہرین نے تحقیق کے ذریعہ ;الٹراساونڈ ;کا کا عمل نہایت ہی آسان ،سادہ اور کم خرچ بنادیا ہے۔ اس میں ؛پیزو الیکٹرک ؛ کے بجائےگوند نما مادہ استعمال کیا گیا ہے۔ یہ تھرتھراہٹ پیدا کرکے ٹرانس ڈیوائسرکا کام سرانجام دیتا ہے۔ جسے ؛پولی سی ایم ،یو ٹی ٹرانس ڈیوسر ڈرم ؛کا نام دیا گیا ہے۔

الٹراساؤنڈ

عام طور پر الٹراساؤنڈ میں ;پیزو الیکٹرک; کرسٹل استعمال کیے جاتے ہیں۔ جو کرنٹ ملنے پر شکل بدلتے ہیں تھرتھراہٹ پیدا کرتے ہیں۔ آوازکی لہروں کی صورت میں یہ تھرتھراہٹ;( وائبریٹ) ;،جسم کے اندر جاتے ہیں ۔ وہاں موجود اعضاء سے ٹکراتےہیں ۔ریڈار کی لہروں کی طرح واپس لوٹ آتے ہیں اور یہی کرسٹل ان لہروں کو دوبارہ بجلی میں بدلتے ہیں ۔جو پراسیس کے بعد ایک تصویر ظاہر کردیتے ہیں۔ اس تصویر کے ذریعے ;ڈاکٹر ;جسم کے اندر بیماری کی تشخیص کرتے ہیں ۔

یہ ٹرانس ڈیوائسر ڈرم سلیکون سے بنائے جاتے ہیں ۔جو کہ ایک مہنگا عمل ہے۔اور ماحول دوست عمل نہیں ہے۔ اب برٹش یونیورسٹی کولمبیا کے طالب علم نے پولیمر سے ;پیزو الیکٹریک مٹیریل; کام لیا ہے۔ اور اس عمل کے ساتھ ہی بہت سے پرزوں کی ضرورت بھی ختم ہوگئی ہے ۔ اس وجہ سے اس کی قیمت بہت کم ہے۔

تجربات سے پتہ چلاہے کہ اس چھوٹے سے;الٹراساونڈ سسٹم”; سے بالکل وہی نتائج ملتے ہیں، جو کسی بڑے اور مہنگے ترین ;الٹرا ساؤنڈ سسٹم; سے حاصل یہ جاتے ہیں۔ اس میں ایک اور اچھی بات یہ ہے کے اسے موبائل پاور بینک سے بھی چلایا جا سکتا ہے۔ اور اسے دس وولٹ کرنٹ درکار ہوتا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

To Top