آج کی بات

بابا بابا ! کل قربانی والی عید ہے ہمیں بھی گوشت ملے گا نا؟

Urdu news سچ بول چال

رحیم یارخان( سچ بول چال Urdu news ) محترم قارئین آج کی اس تحریر میں ,تمام ,”مسلمان بہن بھائیوں “کو عید قربا ن کے حوالے سے ایک پیغام دیا گیا ہے اگریہ تحریر اچھی لگے تو اپنے دوستوں کے ساتھ اس کو شیئر ضرور کریں اور اس پیغام کو سب تک پہنچائیں۔

بابا بابا ! کل قربانی والی عید ہے ہمیں بھی گوشت ملے گا نا؟

انور : ہاں ہاں کیوں نہیں بالکل ضرور ملے گا۔ لیکن بابا پچھلی ,;عید; پر تو کسی نے بھی ہمیں ;گوشت ;نہیں دیا تھا ۔ اب تو پورا سال ہوگیا ہے گوشت کو دیکھے ہوئے ۔

انور : نہیں شازیہ بیٹی اللہ تعالی نے ہمیں بھوکا تو نہیں رکھا ، اور ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔

;حاجی; صاحب قربانی کے لیے بڑا جانور لے کر آئے ہیں اور مولوی صاحب بھی تو بکرا لے کر آئے ہیں۔ ;قربانی ہم غریبوں کے لیے ہی ہےاور قربانی کا گوشت غریبوں کے لیے ہی ہوتا ہے، امیر تو سارا سال گوشت کھاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : جمعہ کی رات مسجدالحرام میں ایک شخص کی چھلانگ کر خودکشی

عید کے دن ;مولوی صاحب; عید کے خطبے میں بیان فرمارہے تھے کہ، قربانی والے دن غریبوں اور مسکینوں ہم کو نہیں بھولنا چاہیے، اور ان کے بہت حقوق ہوتے ہیں ہم پر۔

نماز ادا کرنے کے بعد انور گھر پہنچ گیا۔

کافی دیر انتظار کرنے کے بعد شازیہ بولی۔

 بابا ابھی تک گوشت نہیں آیا ؟

اسی دوران بڑی بہن کی آواز آئی ،;شازی; بابا کو تنگ مت کرو۔

;انور; دونوں بیٹیوں کی باتیں چپ چاپ سنتا رہا اور نظر انداز کرتا رہا۔

دن گزر رہا تھا ، دوپہر ہونے کوتھی ۔

شازیہ کی ماں بولی۔

سنیئے !

میں نےتو پیازاور ٹماٹر بھی کاٹ دیے ہیں، لیکن کہیں سے بھی گوشت نہیں آیا، کہیں بھول تو نہیں گئے ہمیں؟،، ہماری طرف گوشت کسی نے نہیں بھجوایا ۔

آپ خود جاکر مانگ لائیں کہیں سے گوشت

انور: شازیہ کی ماں تمہیں تو پتا ہے، آج تک ہم نے کبھی کسی سے کچھ نہیں مانگا ،;اللہ ;کوئی نہ کوئی سبب پیدا کر دے گا۔

جب بیٹی نے  بہت اصرارکیا تو انورگھر سے نکل پڑا ، پہلے حاجی صاحب کے گھرگیا اور بولاحاجی صاب میں آپ کا پڑوسی ہوں، کیا مجھے قربانی کا گوشت مل سکتا ہے ؟

یہ سننا تھا کہ حاجی صاحب کا رنگ لال پیلا ہونے لگا، اور حقارت سے بولے پتہ نہیں کہاں کہاں سے آجاتے ہیں گوشت مانگنے تڑاخ سے دروازہ بند کیا اور اندر چلے گئے۔

احساس توہین کی وجہ سے;انور; کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور وہ بوجھل قدموں کے ساتھ واپس چل پڑا، راستے میں مولوی صاحب کا گھر تھا ،تو اسکی طرف قدم اٹھے اور وہاں بھی انور نے وہی سوال کیا ۔

;مولوی صاحب; نے گوشت کا سن کر عجیب سی نظروں سے دیکھا، اور اندر چلے گئے تھوڑی دیر بعد باہر آئے تو شاپر دے کر جلدی سے اندر چل دیئے، جیسے اس نے; گوشت ;مانگ کر گناہ کر لیا ہو۔

گھر جاکر دیکھا تو شاپر کے اندر صرف ;ہڈیاں ;اور چربی تھی خاموشی سے اٹھ کر کمرے میں چلے گئے اوراندر بیٹھ کر رونے لگ گئے۔

بیوی آئی اور بولی کوئی بات نہیں آپ غمگین نہ ہوں میں چٹنی بنا لیتی ہوں۔

تھوڑی دیر بعد شازیہ کمرے میں آئی، اور بولی با با مجھے ;گوشت ;نہیں کھانا میرے پیٹ میں درد ہو رہا ہے ،یہ سننا تھا کہ باپ کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے اور پھر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔

رونے والا انور اکیلا نہیں تھا، گھر کے سب افراد دونوں بیٹیاں بیوی سب آنسو بہا رہے تھے۔

اتنے میں دروازے پر ہوئی ۔

انور نے جا کر دیکھا تو پڑوس والا ;اکرم; تھا، جومحلے میں سبزی کی ریڑھی لگاتا تھا۔

انور کے باہر آتے ہی اکرم نے چار پانچ کلو گوشت سے بھرا شاپر پکڑا دیا، اور بولا گاؤں سے چھوٹا بھائی لایا ہے ،اتنا گوشت ہم اکیلے نہیں کھا سکتے یہ تم رکھ لو پکا کر بچوں کو کھلانا۔

 خوشی اور تشکر کے احساس سے انور کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور اکرم کے لیے دل سے دعائیں نکلنے لگیں۔

گوشت کھا کر ابھی فارغ ہوئے ہی تھے کہ، بہت زور کا طوفان آیا اور بارش شروع ہوگئی، بارش کے آتے ہی  بجلی چلی گئی، دوسرے دن بھی بجلی نہ آئی، پتہ چلا کہ بارش کی وجہ سے محلے کا ٹرانسفارمر جل گیا ہے۔

تیسرے دن شازیہ باپ کے ساتھ باہر آئی تو دیکھا ;حاجی صاحب; اور ;مولوی صاحب ;بہت سا گوشت باہر پھینک رہے تھے، جو بجلی نہ ہونے کی وجہ سے خراب ہو چکا تھا، اور اس پر محلے کے کتے جھپٹ رہے تھے۔

شازیہ بولی ،بابا کیا انہوں نے کتوں کے لیے ;قربانی; کی تھی حاجی صاحب اور مولوی صاحب شازیہ کا چہرہ دیکھتے رہ گئے، شازیہ کی یہ بات سن کر دونوں نے اپنی گردن نیچے جھکا لی شرم سے مرے جا رہے تھے۔

 

خدارا اپنے اندر حساس اور رحمدلی کے جذبہ کو پیدا کریں ;غریب; اور ;مسکین ;لوگوں کا عید کے دن خاص خیال رکھیں اور اپنی زندگی کے عام ایام میں بھی ;مستحقین ;نہ بھولیں اور ان کے لئے آسانیاں پیدا کریں رب العزت آپ کے ہر جائز کام میں آپ کے لئے آسانیاں پیدا کریں گے ۔

یہ صرف ایک پیغام نہیں بلکہ آپ تمام ;مسلمانوں ;سے درخواست ہے کہ اپنے آس پاس کے لوگوں پر نظر رکھیں ہیں غربا و; مساکین; کی ضرورتوں سے آگاہ ر ہیں اور جہاں تک بھی ہو سکے ان کی مدد کریں۔; اللہ ;آپ کا حامی و ناصر ہو۔

اس تحریر میں تمام نام فرضی شامل کئے گئے ہیں ۔

ایم اے ملک

Urdu news سچ بول چال


To Top