پاکستا ن

گھبرانے والا بالکل نہیں، اللہ تعالی نے مقابلہ کرنا سکھایا ہے، اب ملک رہےگا یا کرپٹ افراد : وزیراعظم پاکستان


گھبرانے والا بالکل نہیں، اللہ تعالی نے مقابلہ کرنا سکھایا ہے، اب ملک رہےگا یا کرپٹ افراد : وزیراعظم پاکستان


ہم قرضوں کا سود ادا کرنے کے لیے قرض لے رہے ہیں۔ سابق حکمرانوں کے دوروں کا خرچ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے کہا;کہ سابق وزراۓ اعظم، بیرون ملک دوروں پر 65 کروڑ روپے خرچ کر گئے ; وزیراعظم کے 524 ملازم 33 بلٹ پروف گاڑیاں80 دیگر گاڑیاں; ہیلی کوپٹر اور جہاز ہیں; گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاوس پر کروڑوں روپے کے اخراجات ہوتے ہیں ;کسی نے بھی نہیں سوچا کہ ایک طرف ملک مقروض ہے; دوسری طرف حکمران اسطرح رہتے ہیں; جیسے انگریزوں کے دور میں تھے ;سپیکر قومی اسمبلی 8 کروڑ روپے دوروں پر خرچ کر گئے سمجھ نہیں آتی یہ دوروں پر اتنا رقم کیسے خرچ کی اور یہ کرنے کیا آجاتے تھے بیرون ملک۔

ملکی ترقی اور ہماری سوچ

وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ; اگر تباہی کو روکنا ہے تو ملکی ترقی کیلئے ;ہمیں سوچ کو بدلنا ہوگا ;اپنا رہن سہن طوراطواربدلنے اور یہ بات ذہن نشین کرنا ہوگی ;کہ ہم ایک ایسے ملک کے باشندے ہیں ;جہاں 45 فیصد بچے غذائی قلت کے سبب پروان نہیں چڑھ پاتے; اور اس قوم کے سوا دو کروڑ بچے ابھی تک اسکولوں سے باہر ہیں۔

قانون کی بالادستی جزاوسزا

آج وقت آ گیا ہے کہ اپنی حالت بدلیں جس کے لیے ہمیں اپنے نبی اے کریم صل اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی زندگی سے سیکھنا ہوگا; اور قانون کی بالادستی قائم کرنی ہوگی ;انہوں نے کہا کہ رول آف لاء کے بغیر قوم کبھی ترقی نہیں کر سکتی;انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا ;جس پر آپ صلی اللہ وسلم نے فرمایا تھا اگر میری بیٹی بھی چوری کرے گی اس کو بھی قانون کے مطابق سزا دوں گا.

اقلیتوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اقلیتی برابر کے شہری ہیں ; اور قانون کے سامنے سب برابر ہیں; ان کا کہنا تھا کہ جس طرح زکواۃ کی ادائیگی ہم مسلمانوں پر فرض ہے; اسی طرح مغرب میں پیسے والے لوگ ٹیکس ادا کرتے ہیں; اور اس پیسے سے نچلے طبقے کی ضروریات کو پورا کیا جاتا ہے ;مغربی ممالک میں موجود جانوروں کا حال ہمارے انسانوں سے بہتر ہے اور میرٹ کے نظام کی وجہ سے مسلمانوں کو ہر مقام میں فتوحات ملیں۔

تعلیم

تعلیم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ; ہمارے ملک میں سوا دو کروڑ بچے ایسے ہیں جو سکول سے باہر ہیں سکول نہیں جا سکتے ;اور حکمران جو بھی اقتدار میں آئے پیسہ جمع کرنے کے چکر میں لگ گئے ،کسی نے نچلے طبقے کی طرف توجہ ہی نہیں دی ;انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جنگ کے بدر میں سبق دیا ہے ;جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیدیوں کی رہائی پر انہیں مسلمانوں کو تعلیم دینے کی شرط مقرر کی; آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امت کے لئے مثال کی ; کہ تعلیم کے بغیر کوئی قوم آگے نہیں بڑھ سکتی ;حالات بہت برے ہیں لیکن اس کے باوجود قوم گھبرائیے نہیں; اقبال کا خواب پورا کریں گے ;

اس ملک کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں مدینہ جیسی ریاست بنائیں گے۔

گاڑیاں

وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ محض دو ملازم دو گاڑیاں اپنے پاس رکھوں گا اور باقی تمام، وزیراعظم ہاوس کی گاڑیاں بلٹ پروف گاڑیوں سمیت دیگر تمام گاڑیاں غیر ضروری چیزیں نیلام کردی جائینگی; اور رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی جائے گی;ان کا کہنا تھا کہ میرا ارادہ تھا کہ میں وزیراعظم ہاوس کی بجائے اپنے گھر بنی گا لہ میں رہوں ;مگر سکورٹی فورسز اور اداروں کے کہنے پر ملٹری سیکریٹری ہاوس میں رہنا پڑ رہا ہے۔
گورنر اور گورنر ہاؤس

تمام گورنر اپنے اخراجات کم کرکے گورنر ہاوس کے بجائے کسی اور جگہ پر رہیں گے ،جس کیلئے مشاورت جاری ہے; اور جلد ہی فیصلہ کر کے قوم کو آگاہ کر دیا جائے گا۔

تحقیقی یونیورسٹی

عمران خان نے ;وزیراعظم ہاؤس کو ایک اعلی معیار کی ;تحقیقی یونیورسٹی بنانے کا اعلان کیا ہے، جہاں پر دنیا بھر سے بہترین محقق لائے جائیں گے ; اور اعلی درجے کی تحقیق کریں گے ; ان کا کہنا تھا کہ اپنے اخراجات کم کریں گے; اور عوام کو آگاہ کریں گے کہ ہم کتنا بچت کر رہے ہیں; عوام خود موازنہ کرے گی، کہ سابقہ حکمرانوں کے اخراجات کیا تھے; اور ہمارے اخراجات کیا ہیں; اور اخراجات سے پیسہ بچاکر نچلے اور غریب طبقہ جو کہ پیچھے رہ گئے ہیں; ان پر خرچ کریں گے۔

بیرون ممالک اور قرض کی بھیک

انہوں نے کہا کہ، ہماری سب سے بری عادت ہے ،کہ ہم باہر کے ملکوں سے قرض لے کر گزارا کر رہے ہیں; ہم ہر مہینے دوسرے ملکوں میں جاکر ہاتھ پھیلاتے ہیں،انہوں نے کہا کہ ہم ہاتھ نہیں پھیلائیں گے ;جو بھی انسان ہاتھ پھیلاتا ہے; وہ اپنی عزت اپنا سب کچھ داؤ پر لگا کر ہی ہاتھ پھیلاتا ہے ; ہمیں بحیثیت قوم خودداری سے جینا ہوگا; اور دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانے کے بجائے اپنے پیروں پر کھڑا ہونا ہوگا۔ ایف بی آر عمران خان نے کہا کہ ;ہماری 20 کروڑ عوام میں سے آٹھ لاکھ افراد ٹیکس ادا کرتے ہیں

عمران خان کے پہلے خطاب نے ہی مخالفین کے دل میں پاکستانیت جگہ دی، لیگی رہنما سچ اگلنے لگے

یہاں بہت سے مالدار لوگ ہیں; جو اپنی گاڑیاں بنگلے رکھتے ہیں; مگر ٹیکس نہیں دیتے سب سے پہلا کام ایف بی آر کو ٹھیک کرنا ہے ;عوام کو اعتماد دلاتا ہوں کہ ٹیکس کی حفاظت میں خود کروں گا، اور عوام کو پیسہ بچانے کا طریقہ بتاؤں گا; انہوں نے کہا کہ ٹیکس کو زکوۃ سمجھ کر قومی اور نیک جذبے سے ادا کریں، تاکہ پیچھے رہ جانے والے نچلے طبقے کو اپنے پیروں پر کھڑا کیا جا سکے۔

پولیس نظام

آئی جی ناصر درانی کو پنجاب کی پولیس ٹھیک کرنے کا ٹاسک دیا ہے ،جو کہ مان گئے ہیں، اور انہوں نے خیبر پختونخواہ کی پولیس کا نظام دیانتداری کے ساتھ درست کیا تھا ;ان کا کہنا تھا کہ; کے پی کے میں ہمارا انتخاب میں اسرہح جیتنا پولیس کے نظام میں اصلاحات کی وجہ ہے ،ہم نے پولیس کو سیاست سے آزاد کیا; اور اسی طرح پنجاب میں بھی پولیس کو سیاست سے آزاد کریں گے; اور میرا سول انتظامیہ کو پیغام ہے کہ خواہ وہ کسی پارٹی سے بھی ان کا تعلق ہے ;وہ اپنے فرائض نیک نیتی اور ایمانداری سے اور غریب اور چھوٹے طبقے کی; بھلائی کے لیے سر انجام دیں۔

عدالتی نظام

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بہت سی بیوہ حواتین اپنی زمینوں کے کیس لڑ رہی ہیں; جن پر قبضہ مافیا نے قبضہ جما رکھے ہیں; انہوں نے کہا کہ میں چیف جسٹس آف پاکستان سے گزارش کرتا ہوں، کہ جن بیواؤں اور یتیموں کی زمینوں پر مقدمات ہیں; انھیں جلد سے جلد نمٹایا جائے اور انصاف فراہم کیا جائے ;مجھے ایک بیوہ خاتون نے اپنے خون سے خط لکھا ;میرا پوری قوم سے وعدہ ہے کہ مظلوموں اور غریبوں کے لئے ہی دن رات کام کروں گا۔

بچوں سے زیادتی

بچوں سے زیادتی کے مسئلہ پر بات کرتے ہوئے; اپنے خطاب میں عمران خان نےکہا کہ ;ملک بھر میں بچوں سے زیادتی ایک بہت بڑا مسئلہ بن گیا ہے; جو کیس سامنے آجاتا ہے تو ایکشن لے لیا جاتا ہے; مگر اکثر والدین اس پر بات ہی نہیں کر پاتے; اور خاموش رہتے ہیں; بچوں سے زیادتی کے واقعات کی روک تھام اور اس قسم کے جرائم پر سخت ایکشن لینگے; اور پوری کوشش کریں گے کہ اس طرح کے جرائم پاکستان سے ختم ہوجائیں۔

سکول اور مدارس

سرکاری سکولوں اور مدرسوں کے حوالے سے وزیراعظم پاکستان نے اپنے خطاب میں کہا کہ، ہم سرکاری سکولوں کی حالت زار کو بدلیں گےاور معیار کو بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی; اور میری یہ سوچ ہے کہ پرائیویٹ سکولوں کو سرکاری سکول دے کر سیکنڈ ٹائم بچوں کو تعلیم دلوائی جاسکے; اور اسی طرح مدرسے کے بچوں کو بھی ہرگز نہیں بونلنا ،،مدرسوں کے معیار کو بہتر بنانا ہے; اور مدرسوں کے بچوں کا بھی حق ہے کہ وہ انجینئر بنیں ججز بنیں، ڈاکٹر بنیں اور ملک میں اہم کردار ادا کریں۔

ملک بھر میں ہیلتھ انشورنس کا قیام

ہسپتالوں کے حوالے سے وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ اسپتالوں میں رائج پرانا نظام ختم کر کے ہسپتالوں کو بہتر بنانا ہے، ان کا کہنا تھا کہ جب تک یہ اسپتالوں کی منیجمنٹ صحیح نہیں ہوگی; تب تک غریب کے لیے سرکاری ہسپتال اور امیر کے لیے پرائیویٹ ہسپتال کا رواج جاری رہے گا ;ملک بھر کی عوام کے لئے ہیلتھ کارڈ بنائیں گے; جو ہیلتھ انشورنس کے ذریعے پانچ لاکھ روپے تک کسی بیی ہسپتال سے اپنا علاج کرا سکیں گے۔

پانی کا مسئلہ اور ڈیم

اپنے خطاب میں عمران خان نے، پانی کے مسئلہ کی کمی کو ایک بنیادی اہمیت کا حامل مسئلہ سمجھا، جس پر انہوں نے کہا کہ پانی کے حوالے سے ایک وزارت بنا رہے ہیں; اور کسانوں کو نئے جدید طریقے بتائے جائیں گے ،کہ پانی کی بچت کس طرح کی جاتی ہے; اور ریسرچ کراکر پاکستانی زراعت کو بہتر بنانے ;اور زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے طریقے کاشتکاروں کو بتائیں گے; انہوں نے کان کے بھاشا ڈیم بنانا ملک کی اہم ضرورت ہے; اگر یہ ڈیم نہ بنا تو آنے والے وقت میں ملک کو بہت بڑے مسائل سے دوچار ہونا پڑے گا; چیف جسٹس کا ڈیم کے بارے اقدام قابل تحسین ہے ;اور پوری قوم سے اپیل ہےکہ ڈیم فنڈ میں رقم جمع کرائیں۔

سول سروسز

سول سروسز کے حوالے سے وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ سیاسی مداخلت سول سروسز کا بہت بڑا مسئلہ ہے، جس کی وجہ سے سول سروسز ملک کے اندر اپنی خدمات صحیح طریقے سے سرانجام نہیں دے پائیں، انشاءاللہ ہم قوم سے وعدہ کرتے ہیں;سول سروسز میں سیاسی مداخلت کو ختم کریں گے; اور سول سروس کوہرقسم کی مدد بھی دینگے اور انہیں عزت بھی ملے گی; مگر میں چاہتا ہوں کہ ہمارا عام آدمی اگر سول سروسز کے کسی ڈپارٹمنٹ میں جائے تو اسے وی ائی پی سمجھا جائے اس کو عزت و تکریم سے نوازا جائے جوکہ اس کا حق ہے; اور سول سروسز میں، سزا و جزا کا قانون لا ئگے; اچھے کاموں پر بونس جب کے ناقص کارکردگی کی بنا پر سزا دینگے۔

نیا بلدیاتی نظام

عمران خان نے کہا کہ بلدیات کا نیا نظام لائیں گے;جس میں ضلعی ناظم کا براہ راست انتخاب کیا جائے گا ،اور براہ راست ترقیاتی فنڈ دیں گے; نوجوانوں کو نوکریاں دینگے اور انکے سکلز امپرومنٹ پر کام کریں گے ،اور نوجوانوں کو بلاسود قرضے فراہم کیے جائیں گے;کھیلوں کے لئے میدان اور پارک بنائے جائیں گے۔

اربوں درخت لگائے جائیں گے

عزم کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان نےکہا کہ ،ملک بھر میں اربوں کی تعداد میں درخت لگائیں گے، جس کے لیے ملک بھر میں درخت لگانے کی ایک مہم شروع کی جائے گی; ہیٹ ویو کو ختم کرنے کے لئے; درخت لگانا ناگزیر ہے; فضائی آلودگی زہریلے اثرات کو ختم کرنے کے لیے ;درخت لگائیں گے انہوں نے کہا کہ دریاؤں سمندروں کو صاف ستھرا بنا ئیں گے; ملک بھر میں صفائی کا کام کرائیں گے; اور پانچ سال بعد پاکستان ایک صاف ستھرا ملک نظر آئے گا ،جیسا کے آپ یورپ میں صاف ستھرے شہر دیکھتے ہیں۔

پاکستان میں سیاحت

سیاحت کے حوالے سے، وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ ،ایسے ریزورٹ کھولیں گے; جو کہ سوئٹزرلینڈ سے بھی خوبصورت ہوں گے ;اور پاکستان کی ساحلی پٹی کو سیاحت کے فروغ کے لئے استعمال میں لائیں گے; ہمارا ملک بہت خوبصورت ہے، اور اس ملک میں کسی چیز کی کمی نہیں۔
ملک کو ایک فلاحی ریاست بنانے کی شروعات، بیوہ خواتین;معذور افراد ;کی مدد اور سٹریٹ چلڈرن کو تحفظ فراہم کر کے کریں گے; اور اس مقصد کے لیے ہمیں اپنے دلوں کے اندر رحم پیدا کرنا ہوگا۔

 سادہ زندگی

سادگی کے حوالے سے; نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال پیش کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان نےکہا کہ; آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام امت مسلمہ پر حکمرانی ہونے کے باوجود بھی; انھوں نے اپنا طرز زندگی نہیں بدلا; اور ہمیشہ سادگے کےساتھ رہے ;میں بطور وزیراعظم قوم کو سادہ زندگی گزار کر دکھاؤں گا; اور قوم کا ایک ایک روپیہ بچاؤں گا; اور میں اعلان کرتا ہوں کہ بحیثیت وزیر اعظم میں کسی قسم کا کوئی کاروبار نہیں کروں گا ;اور یہ بھی میرا وعدہ ہے کہ آپ کے ٹیکس کا غلط استعمال نہیں ہوگا ;انھوں نے کہا کہ سکیورٹی ریسک کی وجہ سے میں اپنے ساتھ چند گارڈز رکھنے پر مجبور ہوں کیوں کہ سیکیورٹی اداروں نے بتایا ہے کہ میری جان کو خطرہ ہے اور سیکیورٹی لازمی ہے ۔

سچ بول چال آن لائن1 PM Imran Khan




>

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

اوپر