صحت

شوگر کے مریضوں کے لئے کون سی غذا بہتر ہے، روٹی یا چاول؟ٹیبلٹس یا انسولین جانیئےماہرین کی رائے۔

Health tips

سچ بول چال آن لائن Health tips – such bool chaal

رحیم یار خان (سچ بول چال آن لائن ) دنیا بھر میں ;شوگر کا مرض بہت تیزی سے پھیل رہا ہے; اور مریضوں کی جانب سے اکثر سوال کیا جاتا ہے کہ وہ کون سی غذا کھا سکتے ہیں; چاول یا روٹی؟ کیونکہ یہ دونوں معمول کی غذا کےاہم ولازم جز ہیں; اور شوگر کے مریض ان دونوں میں سے کسی ایک کے انتخاب میں اکثر; تذبذب، کا شکار رہتے ہیں۔

شوگر کے مریضوں کے لئے کون سی غذا بہتر ہے، روٹی بہترہےیا چاول بہتر ہے; اسی سوال پر تحقیق کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے ،کہ ذیابیطیس کے مریضوں کے لیے غذا کے انتخاب میں سب سے اہم بات یہ ہے;کہ اس غذا کا گلا ئیسی مک( انڈیکس ) لیول کیا ہے; ماہرین کے مطابق کسی بھی غذا کا گلا ئیسی مک( انڈیکس )لیول اگر پچپن(55); سے کم ہے تو وہ غذا خون میں شوگر کی مقدار کو بہت کم شامل کرتی ہے; اگر یہی لیول(70)ستر ،سے زیادہ کسی بھی غذا میں پایا جائے،تو وہ غذا شوگر کی زیادہ مقدار کو خون میں شامل کرتی ہے.

یہ خبر پڑھیں : زکام سے فوری چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس سادہ سے نسخہ پر عمل کریں

چاول کا گلا ئیسی مک( انڈیکس ) لیول تہتر (73 ) جو کہ بہت زیادہ ہے; جب کہ گندم کے آٹے سے بنی ہوئی روٹی میں ;گلا ئیسی مک( انڈیکس )لیول( 52 )ہے;تو اسی طرح شوگر کے مریضوں کے لئے چاول سے زیادہ بہتر گندم کے آٹے کی روٹی ہے;جسکے استعمال سے شوگر لیول بڑھنے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

ماہرین کی رائے

ماہرین کا کہنا ہےکہ ;شوگر کو غذا کے ذریعے کنٹرول کیا جائے تو زیادہ بہتر ہے; اور شوگر کے مریضوں کو ٹیبلٹ کے استعمال سے بچناچاہئے; کیونکہ ٹیبلٹ جسم میں موجود قدرتی انسولین کو خون میں شامل کرتی ہے; اور اسی طرح کچھ عرصہ بعد قدرتی انسولین جسم کے اندر ختم ہو جاتی ہے، کیونکہ لبلبہ جسم کے اندرنئی انسولین نہیں تیار کر رہا ہوتا;تو ٹیبلٹ کےاستعمال کرنے والے مریضوں کو بعد میں بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے

قدرتی انسولین کو محفوظ رکھا جائے;اور مصنوعی انسولین کے ذریعے خون میں انسولین کی مقدار کو پورا کرتے رہنا چاہیے;تواس طرح شوگر کے مریض زیادہ عرصے تک اس مرض سے پیدا ہونے والے ;مسائل; سےکافی حد تک بچ سکتے ہیں۔ مصنوعی انسولین کے ذریعے خون میں انسولین کی مقدار کو پورا کرتے رہنا چاہیے

سچ بول چال آن لائن Health tips – such bool chaal

مزید پڑھیں : ایل ای ڈی بلب خطرہ جان استعمال کرنےسے پہلے یہ خبرپڑھ لیں

 



Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

To Top