آج کی بات

کہ ایک پارساکو، سونے کی اینٹ، کہیں سے مل گئی، دنیا کی اس دولت نے اس کے، نور باطن کی دولت کو چھین لیا،

(سچ بول چال Urdu news) شیخ سعدی فرماتے ہیں کہ ایک پارساکو، سونے کی اینٹ، کہیں سے مل گئی، دنیا کی اس دولت نے اس کے;نور باطن ;کی دولت کو چھین لیا، اور وہ ساری رات سوچتا رہا کہ اب میں سنگ مرمر ،کی عالیشان حویلی بنواوں گا، نوکر چاکر رکھوں گا عمدہ کھانےبنواوں گا ،اور ;اعلی درجے; کی پوشاک سلواوں گا ۔

ان خیالات نے اسے دیوانہ بنا دیا نہ کھانایادرہا نہ پینا یاد رہا اور نہ ہی زکرحق یاد رہا، ;صبح ;کو اسی خیال میں مست جنگل میں نکل گیا ،وہاں جاکر دیکھاکہ ایک شخص ایک ;قبر; پر مٹی گوندھ رہا ہے۔،تاکہ اس سے اینٹیں بنائے ،یہ نظارہ دیکھ کر پارسا کی آنکھ کھل گئی اوراس کو خیال آیا کہ مرنے کے بعد میری ;قبر ;کی مٹی سے بھی لوگ اینٹین بنائیں گے۔

مزید پڑھیں : تیری خاطر، ہر دکھ منظور”تیری خاطرہر غم منظور مگرمحبت میں شرکت تازہ خبر

عالیشان مکان ،اعلیٰ لباس ،عمدہ کھانےیہیں دھرے کے دھرے رہ جائیں گے، اس لیے اس نے سوچااینٹ کا خیال بیکارہے، ہاں دل لگانا ہے تو اپنے خالق سے لگا ،اوراس نے lسونے کی اینٹ lپھینک دی اور پھر پہلےکی طرح زہد و قناعت کی زندگی بسر کرنے لگا۔

ایک پارساکو، سونے کی اینٹ، کہیں سے مل گئی، دنیا کی اس دولت نے اس کے;نور باطن ;کی دولت کو چھین لیا، اور وہ ساری رات سوچتا رہا

سچ بول چال Urdu news


To Top