آج کی بات

انسان یہ چند کام زندگی میں کرلیں تو زندگی خوشیوں سے بھر جائے گی

سچ بول چال آن لائن Urdu news

رحیم یار خان (سچ بول چال آن لائن) انسان یہ چند کام کرلیں زندگی خوشیوں سے بھر جائے گی، آج کے اس جدید دورمیں جہاں انسان سہولیات اورآسائشوں میں جدت اختیار کرتا جا رہا ہے ،وہیں انسان اپنی ;زندگی; سے بہت سی اہم باتوں کوترک کرتا چلا جا رہا ہے، اورایسا محسوس ہوتا ہے کہ انسان کی زندگی سے ;خوشیاں ;دور ہوتی جا رہی ہیں، آپ نے دیکھا ہو گا کہ کچھ لوگ دولت، گاڑی ،بنگلہ ،بنک،بیلنس غرض سب کچھ ہونے کے باوجود بھی; خوش; نہیں ہوتے، اور کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں

جن کے روز مرہ کے اخراجات بھی بمشکل پورے ہو پاتے ہیں، اور وہ بہت ہی مطمئن اور ;خوشگوار زندگی; گزار رہے ہوتے ہیں، دراصل ان لوگوں کی زندگی میں کوئی ایسی بات ضرور شامل ہوتی ہے جو انہیں محدود وسائل کے اندر بھی ;خوشیاں; مہیاکر رہی ہوتی ہے۔

سب کچھ ہو نے کے باوجود خوش نہ ہونا

 خوشیاں ہونے کے باوجود بھی خوشیوں سےلطف اندوز نہ ہونا یا انہیں محسوس نہ کر پاناجس کی سب سے بڑی وجہ زندگی گزارنے کا انداز ہے ۔ آج کے اس دور میں انسان نے ;زندگی; گزارنے کے انداز ہی ایسے بنا لیئے ہیں ،کہ خوشیاں ہونے کے با وجود بھی انسان خوش نہیں ہو پاتا ،کیونکہ زندگی گزارنے کا انداز بھی; انسان ;کی خوشیوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔اگرانسان یہ کام کر لے اور انہیں اپنا; زندگی ;گزارنے کا انداز بنا لے تو دنیا میں سب سے زیادہ خوش نصیب اورخوشگوار; زندگی; گزارنے والا انسان بن سکتا ہے۔

شکر گزار ہونا ۔

انسان کو اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہونا چاہیے جس انسان کے اندر شکر گزاری موجود ہے وہ یہ سوچتا ہے کہ مجھے جو کچھ بھی ملا ہے اپنے مالک کی طرف سے ملا ہے اور اسے حاصل کرنے میں میرا کوئی کمال نہیں ہے تو ایسا انسان زندگی میں زیادہ ;خوش; رہ پاتا ہے با نسبت ان; لوگوں;کے جو کچھ حاصل کرنے میں اپنا کمال سمجھتے ہیں۔یا ایسے لوگوں سے جو لوگ ہروقت; گلہ شکوہ; کرتے رہتے ہیں کہ مجھے یہ نہیں ملا یا مجھے وہ نہیں ملا۔

معاف کر دینے کی عادت

 جس انسان کے اندرمعافی کی حس موجود ہو وہ انسان بھی; زیادہ خوش; رہتا ہے بانسبت ان لوگوں کے جو لوگ کسی کو معاف نہیں کر تےکیونکہ انسان ہروقت اپنے مالک سے تو معافی کا طلبگار رہتاہے مگر جب وہ خود اس مقام پر ہوتا ہے کہ کسی کو معاف کرسکے اور معاف کرنے کا اختیا رکھتےہوئے بھی معاف نہیں کرتا تو وہ ;انسان; بھی زندگی میں خوش نہیں رہ پاتا کیونکہ; انسان ;جو چیز خود حاصل کرناچاہتا ہے اور وہی چیز آگے کسی کو دے نہیں سکتا تو قدرت بھی اس کے ساتھ وہی کر رہی ہوتی ہے جو وہ کسی اور کےساتھ کر رہا ہوتا ہے۔

بھول جانے کی حس

اسی طرح جس انسان کے اندر بھول جانے کی حس موجود ہو اور اپنے دکھ،درد ،تکلیفیں بھول سکتا ہوتو وہ انسان بھی زندگی میں زیادہ خوش رہ پاتا ہے بانسبت ان لوگوں کے جو;لوگ; اپنے دکھ درد ،;تکلیفیں ;نہیں بھول پاتے یا انہیں اپنے دماغ کے اند ر محفوظ کر کے رکھ لیتے ہیں اور ہر وقت اپنی سوچوں میں دوہراتے رہتے ہیں۔

اس کے بعد جو انسان رشتوں کی قدر کرتا اور انہیں سنبھال کر;زندگی; گزارتا ہے وہ انسان بھی زیادہ خوشگوار زندگی گزارتا ہے با نسبت ان لوگوں کے جو رشتوں کی قدر نہیں کرتےاور(والدین کو یا ان کی باتوں کو اہمیت نہ دیکر بہن ،بھائی دوستوں سے بے نیازہو کر ) ;رشتوں; کو روندتےہوئے آگے بڑھ رہے ہوتے ہیں اورجب وہ زندگی میں سب کچھ حاصل کر لیتے ہیں تواس وقت ان کےپاس ;خوشیاں; توہوتی ہیں مگر ;خوشیاں; شیئر کرنے کو رشتے ہی نہیں ہوتے تو ایسی ;خوشیاں ;اس انسان کے لیئے غم کو صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ اس لیے زندگی ایسے انداز سے گزاری جائے کہ رشتوں پہ آنچ نہ آئے۔

(آوٹنگ) سیرو تفریح

اس کے بعد انسان کوسفر(آوٹنگ) سیرو تفریح کرناچاہیے نئے نئے مقامات دیکھنا چاہئے جوانسان سفر(آوٹنگ) ،سیرو تفریح کرتے رہتے ہیں ان کی زندگی بھی ;خوش گوار;گزرتی ہےبا نسبت ان لوگوں کے جو سفر(آوٹنگ) ،سیرو تفریح نہیں کرتے اور خود کو ;مشین ;کی مانند کام میں لگائے رکھتے ہیں سفر(آوٹنگ);سیرو تفریح ;جیسے کا موں پر توجہ نہیں دیتے۔ کیونکہ سفر( آوٹنگ ) ،;سیرو تفریح; کرنے سے نئے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے نیا ماحول نیا کلچردیکھنے کو ملتا ہے توانسان کے اندر تازگی سی محسوس ہونے لگتی ہےجس سے انسان چھوٹی چھوٹی; خوشیوں ;کو انجوائے کرنے لگتا ہے اس لیئے انسان کوسفر( آوٹنگ ) ،سیرو تفریح کو; زندگی; میں شامل کرنا چاہئے تا کہ انسان کے اندر ماحول کی تبدیلی کا اثر پڑتا رہے۔

سیکھنے کی لگن

اس کے علاوہ کچھ نیا سیکھنے کی لگن ہونی چاہئےجس انسان کے اندرکچھ نیا سیکھنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے وہ انسان بھی زندگی میں زیادہ خوش رہ پاتا بانسبت ان لوگوں کے جولوگ کچھ نیا سیکھنے سے کتراتے ہیں یا سیکھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے کیونکہ کچھ بھی نیا سیکھنے کے لیے; مطالعہ; مشاہدہ; اور پریکٹیکل کی ضررت پڑتی ہے اور جو; انسان; ان سب مراحل سے گزر کر کچھ نیا حاصل کر لیتا ہے کچھ سیکھ کر پا لیتا تواس انسان کی اپنے اندر کی جو کیفیت ہوتی ہے وہی ;انسان; کے من کی خوشی ہوتی ہے جسے کوئی بھی انسان لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا ۔

مزید پڑھیں : ایل ای ڈی بلب خطرہ جان

پختہ ایمان

اس کے بعد سب سے اہم بات انسان کو پختہ ایمان اورپختہ یقین ہونا چاہئے جس انسان کا اللہ تعالیٰ کی ذات پاک پر پختہ ایمان اور پختہ یقین ہو گا وہ ;انسان ;زندگی میں سب سےزیادہ خوش رہتا ہےبا نسبت ان لوگوں کہ جو بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا رہتے ہیں اور بے یقینی کی کیفیت ایمان کے;پختہ; نہ ہونے کی وجہ سے آ تی ہےاور اس کیفیت میں انسان چھن جانے یا ختم ہو جانے کے خوف میں مبتلا رہتا ہے اور ایسے ;لوگوں ;کوزندگی میں خوشیاں ہوتے ہوئے بھی نظر نہیں آتیں -تو انسان کا اپنے مالک پر; پختہ ایمان; ہونا چاہیےاور اپنے مالک پر پورا یقین اور بھروسہ رکھ کر زندگی گزار نی چاہیے اوراپنے تمام معاملات اپنے مالک کے سپرد کر دے تو انسان کی; زندگی; پر سکون اور خوش گوار گزر سکتی ہے –

یہ باتیں انسان اگر صدق دل سے اپنا لے اور ان باتوں کواپنا انداز زندگی بنا لے تو ایسا انسان کبھی نہ ختم ہونے والی خوشیاں حاصل کر سکتا اورپوری زندگی ;خوشیوں; بھری زندگی جی سکتا ہے۔

سچ بول چال آن لائن Urdu news

اللہ آپ کا حامی وناصر ہو۔

ایم ۔اے۔ملک



To Top